Why are Israeli soldiers killing Palestinians and Islamic countries silent?in Urdu
![]() |
| What about Muslims in Palestine? Are Muslims still terrorists in the eyes of Europe and America? |
انسانیت کیا ہے ۔
اسے کہنا انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے کیا تم اسے جانتے ہو کیا ہوتی ہے ۔ آج میں نے کچھ ایسا دیکھا جسے دیکھ کر مجھے رونا آ رہا ہے ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کیوں ----- کیوں ---- یار کیوں ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں کسی کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ لعنت نہیں ہے ہم جیسے لوگوں پر ۔۔۔ میں نے ایک ویڈیو دیکھی اور مجھے لگتا ہے وہ ویڈیو تمام عالم اسلام پر تماچہ ہے ۔ وہ سعودیا کے شاہوں کے منھ پر تماچہ ہے ۔ جو امریکہ کی اس قدر غلامی کرنے لگے ہیں کہ اپنے خون کو ہی بھول گئے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو ہی بھول گئے ہیں ۔ میں نے ایک 2 سال کی تقریبا ایک بچی دیکھی تھی جس کے منھ میں ایک طرف فیڈر تھا اور دوسری طرف اس ہاتھ میں پتھر تھا اور دہشت گرد اسرائیل نے اس بچی کی گردن پر اپنی ٹانگیں رکھی ہوئیں تھیں ۔ یہ اسرائیلی فوج نے بلکہ دہشت گرد فوج نے یاں یوں کہوں کہ اسرائیل دہشت گرد نے اس بچی کی گردن پر ٹانگیں نہیں رکھی ہوئیں تھیں ۔ یہ 56 سے زیادہ اسلامی ممالک ان کے حکمرانوں بلکہ وہاں پر رہنے والے ایک ایک مسلم کی گردن پر رکھیں ہیں ۔ کہاں ہے اقوام متحدہ , کہاں ہے ہیومن رائیٹس والے ۔ کہاں ہیں چائلڈ پروٹیکشن والے کیا سب کے سب مر چکے ہیں اگر زندہ ہیں تو سامنے کیوں نہیں آ رہے ہیں ۔ اور کہاں ہیں وہ لوگ جو مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں کیا انھیں اسرائیل دہشت گرد نظر نہیں آ رہا کیا انھیں مودی دہشت گرد نہیں آتا ۔ مجھے ان کے بولنے یا نا بولنے سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ میرے لیے وہ ہوئے بھی ایک برابر اور نا ہوئے بھی ۔ لیکن شرم تو اس بات پر آتی ہے مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ صرف ایک دو اسلامی ممالک ہیں جو کہ درد دل اور خدا کا خوف رکھتے ہیں جو بول رہے ہیں ۔ اللہ زندگی دے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان صاحب کو جو کہ بول رہے ہیں ۔ اور ہم اب بھی خاموش ہیں ۔
![]() |
| Humanity trembles at the plight of Muslims in Palestine. But as long as it is not ringing in the ears of Muslims, they do not care. |
![]() |
| Humanity trembles at the plight of Muslims in Palestine. But as long as it is not ringing in the ears of Muslims, they do not care. |
کیسے مسلمان ہیں آپ لوگ ؟
میرا خیال ہے آپ کو اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دینا چاہئے ۔ کیونکہ سر آپ میں کوئی بھی مسلمانوں والی عادت نہیں ہے ۔ یورپ اور امریکہ جیسے ملکوں میں ایک کتا بھی مر جائے اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس وغیر والے تمام ادارے جاگ جاتے ہیں اور قراردادیں پاس ہونا شروع ہوجاتی ہیں کہ کتا کیوں مرا ، اس کی وجہ ، اس کو نہیں مرنا چاہئے تھا ۔ تو سر کیا ایک انسان کا خون ایک کتے سے بھی حقیر ہے ۔ نہیں ------ نہیں نہیں --- سر میں کچھ غلط بول رہا ہوں کیونکہ مسلمان تو انسانوں میں شمار ہوتا ہی نہیں ہے ۔ مسلمان تو انسان میں شمار ہی نہیں ہوتا ۔ یہ تو کوئی اور ہی مخلوق ہے اگر مسلمان انسان ہوتا تو اقوام متحدہ بولتا نا ۔ ہیومن رائٹس اوگنائزیشن والے بولتے نا ۔ نہیں ۔۔۔۔ نہیں بولے سر ۔۔۔ کیونکہ مسلمان انسان ہے ہی نہیں ۔
اگر مسلمان انسان ہوتے یا ان میں بھی ایک ہندو ، ایک عیسائی ، ایک یہودی کی طرح سرخ خون پایا جاتا تو اب تک اقوام متحدہ کا کوئی اجلاس ہو چکا ہوتا ۔ جو اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کی تنظیمیں کتنے کے مرنے پر جاگ جاتی ہیں وہ انسانون کے مرنے پر نا جاگتی ۔ وہ جاگتی یقین جاگتی ۔۔۔ وہ نہیں جاگیں ۔۔۔ کیوں نہیں جاگیں ؟
کیونکہ سر مسلمان تو انسان ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج مجھے ایک بات سمجھ آئی ہے کہ انسانیت بھی مذہب کی بنا پر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کتابوں میں لکھی گئی سب باتیں سچ نہیں ہوتی ہیں ---- کتابوں میں کچھ اور لکھا ہوتا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔۔۔۔ کتابوں میں ، میں نے پڑھا تھا انسانیت کا کوئی مزہب نہیں ہوتا ہے ۔ یہ عیسائی سے بھی کی جاتی ہے ، ہندو سے بھی کی جاتی ہے ، اور ایک یہودی سے بھی کی جاتی ہے اور مسلمان سے بھی کی جاتی ہے ۔۔۔۔ مگر آج ایک بات سمجھ گیا ہوں کہ انسانیت کا بھی مزہب ہوتا ہے ---- مزہب نا بھی ہو وہ غیر مسلموں کے لیے نہیں ہوتا ---- مسلمانوں کے لیے تو ہوتا ہے مسلمانوں سے کوئی انسانیت کے ناتے بھی کوئی ہمدردی نہیں دیکھتا ہے ۔ میں کسی سے کچھ لے کر نہیں کھاتا ہوں - میں کوئی ملالہ یوسف کی طرح نہیں ہوں جو بولے گئی بھی تو ایسے کہ جیسے بولا ہی نا گیا ہو ۔ مجھے اس سے تو کوئی دکھ نہیں ہوا کہ غیر مسلم یا غیر مسلم ادارے یا غیر مسلم لوگ خاموش ہے
اگر مسلمان انسان ہوتے یا ان میں بھی ایک ہندو ، ایک عیسائی ، ایک یہودی کی طرح سرخ خون پایا جاتا تو اب تک اقوام متحدہ کا کوئی اجلاس ہو چکا ہوتا ۔ جو اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کی تنظیمیں کتنے کے مرنے پر جاگ جاتی ہیں وہ انسانون کے مرنے پر نا جاگتی ۔ وہ جاگتی یقین جاگتی ۔۔۔ وہ نہیں جاگیں ۔۔۔ کیوں نہیں جاگیں ؟
کیونکہ سر مسلمان تو انسان ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج مجھے ایک بات سمجھ آئی ہے کہ انسانیت بھی مذہب کی بنا پر ہوتی ہے ۔۔۔۔ کتابوں میں لکھی گئی سب باتیں سچ نہیں ہوتی ہیں ---- کتابوں میں کچھ اور لکھا ہوتا ہے مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔۔۔۔ کتابوں میں ، میں نے پڑھا تھا انسانیت کا کوئی مزہب نہیں ہوتا ہے ۔ یہ عیسائی سے بھی کی جاتی ہے ، ہندو سے بھی کی جاتی ہے ، اور ایک یہودی سے بھی کی جاتی ہے اور مسلمان سے بھی کی جاتی ہے ۔۔۔۔ مگر آج ایک بات سمجھ گیا ہوں کہ انسانیت کا بھی مزہب ہوتا ہے ---- مزہب نا بھی ہو وہ غیر مسلموں کے لیے نہیں ہوتا ---- مسلمانوں کے لیے تو ہوتا ہے مسلمانوں سے کوئی انسانیت کے ناتے بھی کوئی ہمدردی نہیں دیکھتا ہے ۔ میں کسی سے کچھ لے کر نہیں کھاتا ہوں - میں کوئی ملالہ یوسف کی طرح نہیں ہوں جو بولے گئی بھی تو ایسے کہ جیسے بولا ہی نا گیا ہو ۔ مجھے اس سے تو کوئی دکھ نہیں ہوا کہ غیر مسلم یا غیر مسلم ادارے یا غیر مسلم لوگ خاموش ہے ۔
غیر مسلم تو ہمیں انسان نہیں سمجھتے ہیں ۔ مگر شرم کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان بھی دوسرے مسلمانوں کو انسان نہیں سمجھتے ہیں ۔ کوئی مسلم ملک بولا ہو ۔ سعودیہ کے شہزادوں کو تو باقائدہ موت پڑی ہوئی ہے ۔ اور ویسے بھی وہ بولے گا ہی کیوں اسرائیل سے پیسے جو مل رہے ہیں ۔ فرانس سے پیسے جو کھا رہا ہے ۔ یہ سعودیہ حکومت مسلمان کے قاتل گجرات کے قصائی اپنے پاس بلا کر تمغے دیتے ہیں ۔
یہ تو ہمارے مسلمانوں کا حال ہے ۔ مسلمان گونگے بہرے ہوئے ہیں اور آوازیں اب یورپ کی جانب سے اٹھائی جا رہی ہیں ۔ شرم ---- شرم کرو ---- شرم کرو مسلمانوں اگر ہے تو ۔
کیونکہ مسلمانوں ایسے نہیں ہوتے سر ۔ مسلمان تو وہ ہوتے ہیں جن کی تعداد 313 ہو ان کے خلاف تلواریں کتنی ہی کیوں نا ہوں ۔ مگر ۔۔۔ مگر پھر بھی وہ فتع یاب ہوتے ہیں ۔ جیت جاتے ہیں ۔ سر مسلمان تو ایسے ہوتے ہیں کہ جنگ جیتے کہ لیے اپنی کشتیاں جلا دیتے ہیں ۔ سر مسلمان کو ٹیپو سلطان کی طرح ہوتے ہیں ان کا قول تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ 100 سال کی زندگی سے بہتر ہے اور وہ شیر تھا بھی ایسا شیر تھا کہ جس کے مرنے کے بعد بھی انگریز ڈر کی وجہ سے اس کے پاس نہیں جا رہے تھے ۔ کہیں دوبارہ زندہ نا ہو جائے ۔
سر مسلمان تو محمد بن قاسم کی طرح ہوتے ہیں حجاج بن یوسف جو کہ ایک ظالم ترین بادشاہ تھا جب اسے سندہ سے ایک ۔۔۔۔۔۔۔ صرف ۔۔۔۔ ایک خاتون نے جو کہ مسلم تھی ۔ قید خانے سے خط لکھا ۔ وہ اپنے تخت سے کھڑا ہو گیا تھا وہ کہنے لگا تھا ------ لبیک ---- میں حاظر ہوں پھر دنیا کی تاریخ نے دیکھا تھا عورتوں نے جہاد کے لیے اپنی مردوں کو گھر سے نکال دیا تھا اپنے زیور بھی دے دیئے تھے ۔
پھر تاریخ دیکھتی ہے کہ محمد بن قاسم سندھ کی چڑھائی کرتا ہے اور پھر سندھ فتع بھی کر جاتا ہے ۔ سر مسلمان یہ تھے جہان پر مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے ساری مسلم مملکت تڑپ جایا کرتی تھی ۔
مگر آج مسلمانوں کا خون بہتے ہوئے بھی دیکھ لیں تو ان کو فرق نہیں پڑتا ہے ۔ مسلمانوں کی عورتیں ۔۔۔۔ نہیں وہ تو کشمیر کی عورتیں ہے وہ تو فلسطین کی عورتیں ہیں ۔ وہ کہاں مسلمانوں کی عورتیں ہیں وہ کہاں مسلمانوں کی عزت ہیں اگر مسلمانوں کی عزت ہوتی تو وہ ۔۔۔ اپنی عزتوں کی تزلیل کرنے والے ان کو روندھنے والوں کا منھ نا توڑ چکے ہوتے نا کہ منھ میں دہی جما کر بیٹھے ہوتے ۔ اگر وہ تمام مسلمانوں کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں طرح ہی مقدم اور قابل عزت ہوتی نا تو وہ بول رہے ہوتے یوں منھ میں دہی جما کر نا بیٹھے ہوتے ۔ یوں اپنی ہی عورتوں کی عزت اور اپنے ہی لوگوں کے قاتل کو اپنے پاس بُلا کر تمغے نا دیئے جا رہے ہوتے ۔
میں کتنی گالیاں دوں میں کتنا برا بھلا ہوں گالیا دینے سے میری اپنی زبان ہی گندی ہو گئی کسی کا تو کچھ نہیں جائے گا ۔ میں نے ایک شرم دلانے کی کوشش کی ہے ۔ اور امید رکھتا ہوں کہ غیرت مند کو تو شرم دلانے کے لیے اشارہ ہی کافی ہے ۔ اور جن کو شرم نہیں آنی ہوتی ان کو گالیاں بھی دے دو تو تب بھی نہیں آنے والی ۔ اب آپ کا شمار کس میں ہوتا ہے یہ فیصلہ آپ پر ہے ۔
اور اس امید سے آپ کو چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ آپ اب جاگیں گئے اور بولیں گئے ۔
امید کرتا ہوں کہ آپ کو میری بات سمجھ میں آ چکی ہو گئی اور آپ برما , فلسطین اور کمشیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف بھی بولیں گئے اپنی آواز اٹھائیں گئے ۔ وہ ایک ابابیل نمرود کی جانب سے لگائی جانے والی آگ میں اپنی چونچ سے پانی ڈال رہی تھی وہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہی تھی تو کسی نے پوچھا کہ تمھارے ایسا کرنے سے کیا آگ بجھ جائے گئی ۔ تو کہنے لگی بجھے گئی تو نہیں مگر جب قیامت میں آگ بجھانے والوں کا نام آئے گا اس میں میرا بھی نام ہو گا ۔ اگر آج آپ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گئے تو قیامت کے دن آپ کا نام بھی ظلم رونے والوں میں آئے گا ۔ اگر نہیں بولیں گئے تو آپ کا شمار بھی ظالموں میں کیا جائے گا کیونکہ کربلا کے بعد سے اب انسانیت کے دو معیار ہیں یا تو بندا حُسینی ہوتا ہے یا یزیدی ہوتا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ آپ پر ہے کہ آپ کون سے ہیں ۔ آپ کا انتخاب اس امید کے ساتھ آپ پر چھوڑے جا رہا ہوں کہ آپ درست انتخاب کریں گئے ۔ اللہ آپ کا حامیوں ناصر ہو





Comments
Post a Comment